اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آسٹریلیا میں ہونے والی نئی شماریاتی اور نفسیاتی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نسل زیڈ (1990 کی دہائی کے آخر سے 2010 کی ابتدائی دہائی تک پیدا ہونے والے افراد) میں مرد، خواتین کے مقابلے میں مذہبی تعلیمات اور مذہبی ضابطوں کی پابندی کی طرف زیادہ مائل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک نسل کے مرد اپنی ہم عمر خواتین سے زیادہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے آسٹریلیا میں مذہبی وابستگی میں مسلسل کمی آ رہی ہے، خصوصاً عیسائی برادری میں، جو ملک کا سب سے بڑا مذہبی طبقہ ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں نوجوانوں کے مذہب کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاپان، تھائی لینڈ، چین، بھارت، ترکیہ، برطانیہ اور امریکہ سمیت متعدد ممالک میں بھی نوجوانوں میں مذہبی رجحان دوبارہ بڑھنے کی علامات دیکھی جا رہی ہیں۔
تحقیقی جائزے کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی نسلوں سے لے کر نسل زیڈ سے پہلے تک یورپ اور آسٹریلیا میں خواتین، مردوں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی سمجھی جاتی تھیں اور مذہبی رسومات و تعلیمات پر زیادہ عمل کرتی تھیں، لیکن اب پہلی بار یہ رجحان تبدیل ہوا ہے اور نسل زیڈ کے مرد مذہبی وابستگی میں خواتین سے آگے نکل گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی دنیا میں سماجی اور مذہبی رویوں کے ارتقا کا ایک اہم اشارہ ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سماجی اور مذہبی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ